منگلورو یکم/ جنوری (ایس او نیوز) منگلورو میں احتجاجی مظاہرے کے دوران ہوئے تشدد اور پولیس کی زیادتیوں کے خلاف سیکیولر پارٹیوں کے مشترکہ محاذ کی جانب سے 2جنوری کو ٹاؤن ہال کے احاطے میں واقع امبیڈکر کے مجسمے کے روبرو زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
سابق وزیر رماناتھ رائے نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کینرا کی سیکیولر پارٹیوں کے نمائندوں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے منگلورو میں ہوئے تشد،اورلوٹ مارپولیس فائرنگ اور ظلم وزیادتی کے سلسلے میں ہائی کورٹ کے جج سے عدالتی تحقیقات کروانے کی مانگ کے ساتھ صبح 10بجے سے شام 4بجے تک احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے لاٹھی چارج اور فائرنگ کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔حکومت چاہیے کہ تشدد کے دوران فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کو پہلے جس معاوضے کا اعلان کیاگیا تھا، وہ معاوضہ اداکیا جائے۔ اس کے علاوہ زخمیوں کو بھی معاوضہ اداکیا جائے۔اور گرفتار کیے گئے تمام بے گناہ افراد کوفوری طور پر رہا کیا جائے۔
رماناتھ رائے نے منگلورو میں حالات بگاڑنے کے لئے حکومت کے امتیازی سلوک اور طرز عمل کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی اجازت دینے کے بعد اچانک دفعہ ۴۴۱ نافذ کرنے کی وجہ سے تشدد بھڑکا تھا۔انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع میں محکمہ پولیس نے احتجاجی مظاہروں کو بڑے ہی پرامن طریقے پر سنبھالا تھا جبکہ منگلورو میں پولیس نے ظالمانہ قوت اور فائرنگ کا استعمال کیا۔سٹی پولیس کمشنر ڈاکٹر ہر شا نے احتجاجی مظاہرین کی تعدادجو بتائی ہے وہ غلط ہے، پولیس کے ہتھیار چھین لینے کی کوشش جیسی جھوٹی باتیں پھیلائی ہیں۔ اور کچھ منتخب سی سی ٹی وی فوٹیج عام کرکے تشدد کے واقعات کی اصل حقائق چھپانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ نے اس تشدد کے پیچھے اپوزیشن کا ہاتھ ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس ہنگامے کی عدالتی جانچ ہوجائے اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔
پریس کانفرنس کے موقع پر وزیر ابھیا چندرا جین، سی پی ایم ڈسٹرکٹ سیکریٹری وسنت اچاری، سی پی آئی ڈسٹرکٹ سیکریٹری وی کوکیان، جے ڈی ایس ڈسٹرکٹ صدر محمد کنہی، کے پی سی سی ڈسٹرکٹ سیکریٹری پی وی موہن اور بہت سارے دیگر لیڈران موجود تھے۔